15 منٹ میں اسلام کی مکمل تشریح
سوال:
کیا اسلام صرف ایک ظاہری اور رسمی عمل کا نام ہے ؟ علامہ اقبال کی اس بات میں کتنی گہری حقیقت ہے کہ
زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ہم اپنی سوچوں خواہشوں اور طرز عمل کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کیسے کریں؟
گفتگو:
اسلام پر عمل پیرا ہونا بہت آسان کام ہے لیکن اُن کے لیے آسان ہے جنہیں اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اور جن کو اللہ ہدایت نہیں دینا چاہتا ان کے لیے یہ مشکل نہیں نا ممکن ہے، مسئلہ یہ ہے کہ علما سو نے اسلام کی صحٰح تشریح نہ خود جانی نہ آگے بتا پائے ، اھر قرآن مجید کا صحیح مطالعہ ہو اور کوئی قرآن مجید سمجھانے والا اہل نظر ، اہل دل ہو تو پھر اسلام کو سمجھنا بڑا آسان کام ہے ۔
قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ میں اس سوال کا مکمل جواب مل جاتا ہے اس کے بعد پھر ایک حدیث بھی ہے جو آپ کے سامنے رکھیں گے۔
قرآن کہتا ہے
أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّهِ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢٢﴾
ترجمہ: کہ وہ شخص جس نے اپنا سینہ اسم ذات اللہ سے کھول لیا تو اس کو اپنے رب کا نور ملنا شروع ہو جائے گا اور ہلاکت و تباہی ہے ان لوگوں کی کہ جن کے دل میں اتنی سخت ہے کہ کہ اللہ کا نور اس میں سرایت نہیں کرتا۔
کسی کے دل میں اگر اللہ کا نام اللہ کا نور اللہ کا ذکر سرایت نہ کرے تو قرآن اس کو کھلی گمراہی قرار دیتا ہے۔
کہاں ہیں وہ، اسلام کی تشریح کرنے والے جنہوں نے قرآن مجید کی اس آیت کو یکسر فراموش کر رکھا ہے ، میں بڑی ذمہ داری کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں آج تک کسی بھی عالم کو قرآن کی اِس آیت کو بیان کر کے لوگوں کو اسلام کا صحیح طریقہ سمجھاتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
قرآن کی اِس آیت مبارکہ میں صاف صاف لکھا ہوا ہے( للاسلام) اگر اسلام پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہو تو پھر اِسمِ اللہ ذات سے شرح صدر کرنی ہو گی، اپنے قلب کو اپنے سینے کو اسم ذات کے نور سے کھولنا ہوگا اور جن کا سینہ اِسمِ ذات اللہ سے کُھل گیا ( فھوعلی نور من ربی) پھر اسکو اپنے رب کا نور ملنا شروع ہو جائے گا ۔
یہ اسلام ہے آپ اس کو اسلام کی شرط یا اس کو اسلام کی روح قرار دے دیں، یہ اسلام پر عمل پیرا ہونے کا وہ طریقہ ہے جو اللہ رب العزت نے اپنے کلام میٍں بیان فرما دیا ہے اس سے بڑھ کر اسلام کی تشریح نہیں ہو سکتی ، اللہ سے بڑھ کر کون جانے گا اسلام کو! جب اللہ نے فرما دیا اگر اسلام پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہو تو اپنے سینے کی اسم ذات اللہ سے شرح کر لو ۔
شرح صدر کی نشانی اور دلیل : پھر اس کو اپنے رب کی طرف سے نور ملنے لگ جائے گا ۔
رب کا نور کیسے ملے گا سیدنا گوہر شاہی نے اس کی تشرح ہمیں بتائی :
جس طرح پتھر آپس میں ٹکراتے ہیں تو چنگاری اٹھتی ہے ، بادل آپس میں ٹکراتے ہیں تو بجلی کوندتی ہے، پانی ،پانی سے ٹکراتا ہے تو اس سے بھی انرجی بنتی ہے اسی طرح جب لفظ اللہ آپس میں ٹکراتے ہیں تو اس سے نور بنتا ہے ۔ جب دل میں اللہ کا نام اترے گا اور اللہ کے نام کا رگڑا لگے گا نور بننا شروع ہو جائے گا ۔ قرآن نے بھی کہا فھو علی نور من ربی ۔ یہ اسلام ہے ، اسلام کی یہ قرآنی تشریح ہے اس پر علامہ اقبال صاحب کا یہ شعر رکھ لیں
خرد نے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
قرآن بھی یہ ہی کہہ رہا ہے کہ شرح صدر کرو تب اسلام ہے۔
قرآن مجید کی سورہ حجرات کی ایک اور آیت ہے
قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ
قالت الاعراب آمنا
اعرابیوں نے کہا ہم مومن ہیں
قل لم تومنو
اللہ نے محمد رسول اللہ سے فرمایا آپ کہہ دیں تم مومن نہیں ہو
ولکن قولو اسلمنا
ایمان کا دعویٰ مت کرو ابھی تم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے ہو
ولما ید خل lلایمان فی قلوبکم
مومن تب بنو گے جب یہ نور تمہارے قلب میں اترجائے گا
علامہ اقبال صاحب نے اپنی طرف سے تو کہانی گھڑ کر نہیں کہی تھی کہ زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
انہوں نے بھی قرآن سے پڑھ کر ہی اپنا یہ ماخذ نکالا ناں
ہم نے بھی جو شاعری کی ہے ہم نے ادھر ادھر تخیلات اپنی شاعری میں بیان نہیں کیے ہم نے اپنی شاعری میں وہ حقیقتیں بیان کی ہیں جو حقیقتیں ہمیں قرآن مجید سے ملیں ، احادیث سے ملیں ، سیدنا گوہر شاہی کی نظر سے ملیں ۔
علامہ اقبال نے یہ بھی کہا
خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ و فساں لا الہ الا اللہ
اگر تُو اپنے آپ کی پہچان کرنا چاہتا ہے تو اس کا سراغ لا الہ الا اللہ کے ذکر میں ہے
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹے بتوں کو توڑ دیا تھا ، اِسی طرح اب یہ دور کسی ایسے ابراہیم کی تلاش میں ہے جو تمہارے من میں جھوٹے بت بیٹھے ہیں، انانیت کے، شرک کے ، بدعت کے ، کفر کے نفاق کے ان کو توڑ کر تمہارے سینوں کو چیر کر تمہارے سینوں میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بسا دے ، یہ نظر گوہر شاہی سے ہوا۔
اب اس کو محمد رسول اللہ کی تشریح میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
قرآن نے کہا شرح صدر کر لو اللہ کے نام سے نور ملنا شروع ہو جائے گا یہ ہدایت ہے
حضور ﷺ نے فرمایا
عن النعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : أَلاَ وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ بَني آدَمْ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ. أَلاَ وَهِيَ الْقَلْبُ - صحیح بخاری - كتاب الإيمان - حدیث 52
اے بنی آدم تیرے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے اگر اُس کی اصلاح ہو جائے تو پورے جسم کی اصلاح ہو جاتی ہے اگر اُس میں فساد ہو جائے تو پورا جسم فساد میں مبتلا ہو جاتا ہے یاد رکھ وہ تیرا قلب ہے ۔
اس سے بڑھ کر ہدایت صراط مستقیم ، دین السلام کی روح کو پانے کا اور کون سا طریقہ ہے، سوال یہ ہے کہ اِسلام کے علما نے اِن آیات اور اِن احادیث کو اب تک فراموش کر کے کیوں رکھا ہے؟؟
آج عام مسلمان کھڑا ہو کر کیوں کہہ رہ اہے کہ اسلام کیا ہے ہمیں بتائو، ساڑھے چودہ سو سال اس قرآن مجید کو اترے ہو گئے ، ساڑھے چودہ سو سال اِن احادیث کو آئے ہو گئے ، تمہیں آج تک ایسا کوئی نہیں ملا جو یہ پڑھ کے ہی سنا دے ؟
جب رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اگر پورے جسم کی اصلاح چاہتے ہو تو قلب کی اصلاح کر لو ، اِس سے بڑھ کا راستہ کیا ہو گا ، اِس سے بڑھ کر آسانی کیا ہوگی کہ ایک چھوٹی سی چیز بتائی جا رہی ہے کہ اپنے قلب کو پاک کر لو تو ورا جسم پاک ہو جائے گا ۔
ہم عماموں اور داڑھیوں میں ، ختنہ کرانے ، پائنچہ اوپر نیچے کرنے ، لمبے چوغے پہننے میں ہی لگے رہیں گے جب کہ یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے صرف ایک قلب کو پاک کر لو ۔
پورے وجود کو اسلام کے تابع کرنے کے لیے ، پورے وجود کو پاک صاف کرنے کے لیے بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کا قول مبارک ہے کہ صرف اپنے قلب کو پاک صاف کر لو ۔
اگر آپ اِس کو فراموش کر کے آگے بڑھتے ہیں کہ نہیں جی اسلام تو یہ ہے ، اِسلام تو وہ ہے ، اور فلاں عالم نے یہ کہا تو پھر آپ رسول اللہ کے گستاخ ہیں آپ کو اِسلام سے دلچسپی ہی نہیں ہے اگر قرآن و حدیث کو چھوڑ کر آپ لوگوں کی باتوں پر عمل پیرا ہیں اور قرآن و حدیث سے اگر آپ کو بیر ہے آپ نے ان کو فراموش کیا ہوا ہے تو آپ کا اللہ رسول سے تعلق کہاں ہے ، آپ اسلام کو ڈھونڈ نہیں رہے ہیں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں اور دنیا میں آفتنہ پھیلا رہے ہیں ۔
لوگ کہتے ہیں دل اللہ اللہ کیسے کر سکتا ہے یہ بات ہم نے پہلے کبھی سنی نہیں ، اگر یہ بات تم نے سنی نہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات حقیقت نہیں ہے
یاد کرو حضور پاک ﷺ نے مولا علی کو کیسے تلقین فرمائی ، کیسے آپ ﷺ نے ان کے باطن کو منور کیا
غمض عینک یا علی واسمع فی قلبک لا الہ الا اللہ
اے علی اپنی آنکھیں بند کر اور سن تیرے قلب میں لا الہ الا اللہ کا کلمہ گوبج رہا ہے
رسول اللہ ﷺ نے یہ تعلیم مولا علی کو دی اور مولا علی کو کہا اب تم یہ تعلیم میرے امتیوں کو دو
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَهَذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہُ - مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ حضرت علی بن ابی طالب حدیث 719
جس کا میں مولا ہوں علی اس کا مولا ہے
أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا
میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں
یہ حقیقتیں ہیں، اِسلام پر عمل پیرا ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ، ان فرقہ واریت میں تم اس لیے پڑے ہو کیوں کہ تم نے قرآن کو چھوڑ دیا، رسول اللہ کے طریقے کو چھوڑ دیا ہے اِسی لیے تم شیعہ ، سنی، وہابی ، دیوبندی ، بریلوی بنے ہوئے ہو۔
کیا تم اندھے ہو کہ ایک ہی قرآن کو پڑھتے ہو اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اِسلام کو پانے کے لیے شرح صدر کرنی ہے ، وہابی ، سنی شیعہ، بریلوی ان میں بٹ کر اُمت کا شیرازہ بکھیر دیا ، اور اتنی عقل نہیں ہے کہ قرآن کو پڑھ کر سمجھ جائیں کہ اسلام کیسے حاصل ہوتا ہے ۔
افمن شرح اللہ صدرہ
شرح صدر کرنی ہے
للاسلام
اسلام کو حاصل کرنے کے لیے
یہ ہے اسلام کو پانے کا طریقہ اور یہ ھدیث تو ایک کرامت حدیث ہے اور کیسا زبردست فارمولا حضور پاک ﷺ نے دیا ہے کہ
تیرے جسم میں گوہشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر اس کی اصلاح ہو جائے تو پورے جسم کی اصلاح ہو جائ گی، تو یہ کتنی آسان بات ہو گئی
زبان کو قابو میں کرنا ہے، گالی نہیں دینی ہے ، بری بات نہیں کرنا ہے ، جھوٹ نہیں بولنا ہے ، آنکھوں کو حیا سے بھرپور رکھنا ہے ، کانوں کو بری باتوں سے بچانا ہے ، کیسے سکھائو گے ٹانگوں کو ہاتھوں کو آنکھوں کو زبان کو ؟؟ رسول اللہ نے ان سب کا علاج ایک چیز کو درست کرنے میں فرما دیا ، تم الگ الگ کس کس کو ہدایت دو گے، آپ ﷺ نے فرما دیا بس قلب کی اصلاح کر لو ، اگر قلب کی اصلاح ہو گئی تو قلب نور بنائے گا وہ نور پورے وجود میں پھیل جائے گا اب تیری زبان بھی نور کے تابع ہو جائے گی ، تیرے ہاتھ پائوں ناک کان سر سب کچھ نور کے تابع ہو جائے گا ۔
اور پھر جن میں نور آیا وہی رسول اللہ کے تابع ہوئے ،وہی اللہ کے تابع ہوئے اور جن میں نور نہیں آیا وہ تو تابع نہیں ہوئے وہ تو خود اپنے لیے بھی جہنم بنا رہے ہیں اور لوگوں کے لیے بھی جہنم بنا رہے ہیں ۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی، یہ کوئی ایسا علم نہیں تھا کہ جس کو داتا علی ہجویری نے چھپا کر رکھا ، خواجہ غریب النواز نے چھپا کر رکھا چلو اگر انہوںن ے چھپا کر بھی رکھا تو قرآن تو تمہارے پاس تھا اُس میں لکھا ہو اہے ناں شرح صدر کرو، داتا علی ہجویری نے اس پر ہائی لائیٹر تھوڑی پھیر دیا تھا کہ تم کو یہ آیت نظر ہی نہیں آئی ، یا خواجہ غریب النواز نے وہ حدیث ہی چھپا لی کہ مسلمانوں کو گمراہ ہونے دو یہ حدیث ہٹا دو ، سب کتابوں میں موجود ہے فرق صرف اتنا ہے انہوں نے عمل کیا اور خواجہ بن گئے اور تم شیعہ سنی وہابی ، دیوبندی، بریلوی کی اس فضول بکواس میں لگے رہے تم ابھی تک وہیں ہو ، اللہ سے دور ، رسول اللہ سے دور اسلام سے دور سوائے لڑائی جھگڑے کے تمہیں کیا آتا ہے؟ فرقہ وارانہ فسادات ، شیعہ سنی کے لڑائی جھگڑے ، وہابی بریلوی ، دیوبندی کے لڑائی جھگڑے ، یہ تمام لڑائی جھگڑے دیکھ کر اللہ رسول خوش ہوتے ہوں گے؟
تم کو محمد رسول اللہ نے ایک نام دیا تھا “امتی” کہاں ہے وہ نام ، کوئی اپنے آپ کو آج امتی کہتا ہے؟ نہیں کہتا ، کیونکہ امتی ہے نہیں ۔
کیا اللہ نے یہ نہیں بتایا مسلمان اور مومن میں کیا فرق ہے؟
قراآن میں لکھا ہوا ہے
قالت العراب آمنا
یہ جو اعرابی کہہ رہے ہیں ہم مومن ہیں
قل لم تومنو
انہیں کہہ دیں تم مومن نہیں ہو
ولکن قولو اسلمنا
کہو مسلمان ہوئے ہو
ولما۔ یدخل الایمان
مومن تب بنو گے جب کلمہ کا نور تمہارے قلب میں اتر جائے گا
اور کیسے بیان ہو گا یہ تو قرآن میں ہے، ابھی بھی سمجھ میں نہیں آیا !
کیا کسی مسلمان کو اس بات کی پرواہ ہے قلب میں نور کیسے اترے گا ؟
قلب کی اصلاح کیسے ہو گی؟
جب کہ یہ سب تو قرآن میں لکھا ہے ، معلوم یہ ہوا آپ کو اسلام سے قرآن سے حدیث سے دل چسپی ہی نہیں ہے ، جب قراآن نے صراط مستقیم کا سراغ دے دیا جب قرآن نے حقیقت بتا دی کہ اسلام کا حصول صرف شرح صدر سے ہوگا تو پھر بکواسات میں کیوں پڑ رہے ہو، کسی کو دیکھو وہ رفع یدین میں الجھا ہوا ہے کسی کو دیکھو وہ حضور کو حاضر و ناظر جاننے میں لڑ جھگڑ رہا ہے ، کوئی کہہ رہا ہے معاذ اللہ ثم معاذ اللہ حضور ایک ڈاکیے کی طرح تھے ، کویئ کچھ ، کوئی کچھ کہہ رہا ہے ، قرآن بغل میں دبایا ہوا ہے اس کو پڑھ نہیں رہے ، مسلمانوں پر قرآن کا عذاب نازل نہیں ہوگا تو کیا ہو گا ۔
جب رسول اللہ اپنی زبان سے کہیں
انا من نور اللہ والمومنین من نوری - کتاب مدارج النبوۃ
میں اللہ کا نور ہوں اور مومنین میرے نور سے ہیں
اس کے باوجود بھی کوئی یہ کہے محمد رسول اللہ کو نور نہ کہو یہ شرک ہے ، تم کون سے مسلمان ہو ، کون سا دینہے تمہارا ، کون سا قرآن تم پڑھتے ہو
اگر رسول اللہ کی باتیں بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آتیں یا اس کو فراموش کر دیتے ہو تو پھر رسول اللہ کا نام کیوں لے رہے ہو ، رسول اللہ کی تعلیم اگر جھٹلا رہے ہو تو پھر ان داڑھیوں عماموں سے کیا فائدہ ہے ، ان سنتوں کا کیا فائدہ ، جب رسول اللہ کےاحکامات ہی تم نے بھلا دیے ، رسول اللہ نے یہ چاہا تھا کہ امت کا شیرازہ بکھر جائے ، سنی شیعہ وہابی ، بریلوی ، دیوبندی بن جائیں ، یہ تو نہیں سکھایا تھا رسول اللہ نے